محمد رضی الاسلام ندوی
میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ایک جوڑا اپنی ازدواجی زندگی سے بہت پریشان ہے - ابھی ان کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، لیکن ان کے درمیان اتنے تنازعات ہو گئے ہیں کہ وہ دونوں اب رشتہ ختم کرنے کو سوچ رہے ہیں - میں چاہتا ہوں کہ ایک بار آپ ان سے ملاقات کرلیں اور ان کی کچھ کونسلنگ کردیں - ہوسکتا ہے ، ان کے تعلقات میں خوش گواری آجائے - میں نے کہا : ٹھیک ہے ، انہیں بھیج دیں -
دوسرے دن ایک جوڑا میرے دفتر آیا - لڑکے کی عمر تیس برس سے زائد اور لڑکی کی عمر اس سے کم رہی ہوگی - لڑکی کی گود میں ایک پیاری سے بچی تھی ، جس کی عمر اندازاً ڈیڑھ برس ہوگی - اس بچی نے تھوڑی دیر میں میری الماری سے کتابیں نکال نکال کر انہیں نئے سرے سے مرتب کردیا - یہ لوگ اسے منع کرنے اور روکنے کی کوشش کرتے رہے ، لیکن میں نے کہا کہ بچی کو اس کے حال پر چھوڑ دیں - وہ جو کررہی ہے ، کرنے دیں -
اس سے پہلے کہ ان میں سے کوئی کچھ بولتا ، میں نے کہا :” آپ لوگوں کی شادی کو ابھی ڈھائی برس ہوئے ہیں - اتنے کم عرصے میں آپ کے درمیان اتنے اختلافات پیدا ہوگئے کہ آپ لوگ رشتہ ختم کرنے کو سوچ رہے ہیں - حیرت ہے - اتنے کم عرصے میں تو ایک دوسرے کو سمجھنا بھی ممکن نہیں ہوتا - “
میں نے کہا : " آپ لوگ بغیر وقت لیے اچانک آگئے ہیں ، اس لیے ابھی آپ سے تفصیلی گفتگو ممکن نہیں ہے - آئندہ آپ وقت طے کرکے آئیں - میں آپ لوگوں کے ساتھ تین نشستیں کروں گا - پہلے ہر ایک سے الگ الگ بات کروں گا اور اس کی شکایتیں سنوں گا جو اسے اپنے پارٹنر سے ہیں ، تیسری نشست دونوں کے ساتھ کروں گا - البتہ آج آپ لوگوں کے سامنے دو سوالات رکھتا ہوں - اگلی ملاقات میں ہر ایک مجھے ان سوالات کے جوابات دے -
پہلا سوال یہ ہے کہ ابھی آپ لوگوں کی شادی کی عمر ہے - یہ رشتہ ختم کرکے آپ اپنا دوسرا نکاح کرنا چاہیں گے - میں نے لڑکے کو مخاطب کرکے کہا : کیا ضروری ہے کہ آپ کو دوسری بیوی پہلی بیوی سے اچھی ملے - وہ اسی جیسی ہو سکتی ہے اور اس سے خراب بھی - تب آپ کیا کریں گے؟
اسی طرح لڑکی کو مخاطب کرکے کہا : اگر آپ کا فیصلہ ہو کہ اب میں نکاح ہی نہیں کروں گی تو یہ آپ کا بہت غلط فیصلہ ہوگا - طویل زندگی بغیر شوہر کے گزارنا بہت سے پہلوؤں سے انتہائی نامناسب ہے - اور اگر آپ دوبارہ نکاح کو سوچیں گی تو کیا ضروری ہے کہ دوسرا شوہر پہلے شوہر سے اچھا ہو - وہ اسی جیسا ہوسکتا ہے اور اس سے خراب بھی - تب آپ کیا کریں گی؟
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ بچی ابھی ڈیڑھ برس کی ہے - اپنی ماں کے پاس ہے - بعد میں باپ کے پاس چلی جائے گی - وہ بڑی ہوگی - میں نے لڑکی کو مخاطب کرکے کہا : وہ آپ سے پوچھے گی کہ میرے ابّا کہاں ہیں؟ وہ میرے پاس کیوں نہیں آتے؟ مجھے پیار کیوں نہیں کرتے؟ میرے ساتھ کیوں نہیں کھیلتے؟ آپ مجھے ان کے پاس کیوں نہیں لے جاتیں؟ بچی کے ان سوالات کا آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟ اسی طرح میں نے لڑکے کو مخاطب کرکے یہی سوالات کیے : لڑکی آپ کے پاس آجائے گی ، اس کی شادی کا موقع آئے گا ، وہ اپنی ماں کے بارے میں پوچھے گی تو آپ کیا جواب دیں گے؟ رشتہ لگانے والے اس کی ماں کے بارے میں دریافت کریں گے تب آپ کیا کہیں گے -
چلتے چلتے میں نے دونوں سے کہا : اس دنیا میں آئیڈیل کا وجود نہیں ہے - وہ لوگ بے وقوفی میں مبتلا ہیں جو اپنے جوڑے میں اپنا آئیڈیل تلاش کرتے ہیں - لڑکا اپنی بیوی کے سلسلے میں حسین خواب بناتا ہے اور جس لڑکی سے اس کا نکاح ہوجاتا ہے اس میں اپنے خوابوں میں سجی آئیڈیل بیوی تلاش کرتا ہے - اسی طرح لڑکی اپنے خوابوں میں ایک شہزادہ بناتی ہے اور جس لڑکے سے اس کا نکاح ہوجاتا ہے اس میں اپنے خوابوں کے اس شہزادے کو تلاش کرتی ہے - جب کہ حقیقت کی دنیا خوابوں سے بہت مختلف ہوتی ہے - خوش گوار ازدواجی زندگی اسی صورت میں گزاری جاسکتی ہے جب شوہر اپنی بیوی کو اسی طرح قبول کرے جیسی وہ ہے اور بیوی اپنے شوہر کو اسی طرح قبول کرے جیسا وہ ہے -
میں نے اس جوڑے کو اپنا کارڈ دیا ، جس میں میرا موبائل نمبر درج تھا - میں نے کہا : آپ میں سے کوئی کل آسکتا ہے -
اس واقعہ کو ایک مہینہ ہوگیا ہے - اب تک ان میں سے کوئی بھی میرے پاس نہیں آیا - پتہ نہیں ، میری باتیں اثر کر گئیں ، یا وہ دوسرے کسی ایسے شخص کی تلاش میں لگ گئے جو انہیں سمجھانے بجھانے کے بجائے جلد از جلد الگ کرادیے -


