غزل


*✍🏻حیدر میواتی ندوی*


شب کی تنہائی ستائے گی مجھے

مہ رخوں کی یاد آئے گی مجھے  


شمع محفل کا یہ کیسا ہے اصول ؟

 خود جلے گی اور جلائے گی مجھے 


زلف جاناں دیکھیے  بکھرے گی کب

اور پھر کب نیند آئے گی مجھے


میں پریشاں حال ہوں یہ سوچ کر

کیا صبا پیغام لائے گی مجھے 


وہ کہ جس ہستی کو چاہا ٹوٹ کر

جام ہاتھوں میں تھمائے گی مجھے


دست ساقی میں نے چوما جس گھڑی

یاد ہر پل اس کی آئے گی مجھے


چہرۂ جاناں کو دیکھا شوق سے 

زندگی اور کیا دکھائے گی مجھے 


بزم میں حیدر غزل گو آگیا

شاعری وہ کیا سنائے گی مجھے

________

19 دسمبر 2023 ۔

Email